3 ستمبر، 2026، 5:29 PM

سیریک میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنانے والا بم، امریکی ساختہ تھا، نیویارک ٹائمز کا انکشاف

سیریک میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنانے والا بم، امریکی ساختہ تھا، نیویارک ٹائمز کا انکشاف

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اعتراف کیا ہے کہ سیریک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنانے والا بم، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد خون میں نہلا دیے گئے، امریکی اسلحہ خانے کا حصہ تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ملبے کی تحقیقات اور تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ امریکہ نے کیا تھا۔ اس حملے میں جنوبی ایران کے شہر کوہستک میں جاری شادی کی تقریب کو تین دھماکوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں عام شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

نیویارک ٹائمز کے حملے کے مقام کی تصاویر اور ویڈیوز، مقامی باشندوں اور حکام کے بیانات کی بنیاد پر کیے جانے والے تجزیے کے مطابق، امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا یہ حملہ ایک رہائشی علاقے میں واقع اس عمارت پر کیا گیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔

اس اخبار کے اسلحہ تحقیقاتی شعبے کے تجزیہ کار ٹریور بال نے کہا ہے کہ حملے کے بعد تصاویر میں نظر آنے والے ہتھیاروں کے ملبے کے اجزا ایک ایسے گائیڈڈ بم سے مطابقت رکھتے ہیں جسے امریکی سینٹرل کمانڈ استعمال کرتی ہے، جبکہ یہ ہتھیار ایرانی افواج کے اسلحہ خانے میں موجود نہیں ہے۔

یاد رہے صوبۂ ہرمزگان کے ضلع سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر امریکی دشمن کے حملے کے نتیجے میں 70 سے زائد ایرانی شہری شہید اور زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

واضح رہے یہ وحشیانہ جنگی جرائم، جو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے سابقہ جرائم کی یاد تازہ کرتے ہیں، جن میں میناب اور لامرد کے واقعات بھی شامل ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکی فوجی جارحیت کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اپنے مسلم حقِ دفاعِ کے تحت ان امریکی فوجی اڈوں کو بھرپور اور فیصلہ کن دفاعی حملوں کا نشانہ بنایا، جہاں سے ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کا آغاز اور اسے معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔

News ID 1941101

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha